بنگلورو۔24؍اکتوبر(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے محکمۂ توانائی میں کوئلہ بلاکس کی خریداری میں مبینہ بے قاعدگیوں کے الزامات کا جواب دینے کے بعد وزیر اعلیٰ سدرامیا اور وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار نے سابق وزیر توانائی شوبھاکارند لاجے کے دور میں بیرون ریاستوں اور دیگر ذرائع سے بجلی کی خریداری میں ہوئی بے قاعدگیوں کی جانچ کا فیصلہ کیا ہے۔
ریاستی بی جے پی کی طرف سے حکومت کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا موثر جواب دینے کیلئے حکومت نے یہ پہل کی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شوبھا نے بحیثیت وزیر توانائی 28؍ہزار کروڑ روپیوں کی بجلی کی خریداری کو منظوری دی تھی، سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت والی ایوان کمیٹی نے اس معاملے کی جانچ کرتے ہوئے ایوان میں یہ عبوری رپورٹ پیش کی ہے کہ ان سودوں سے ریاستی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔
بتایاجاتاہے کہ وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے کمار سوامی کمیٹی کو یہ گذارش کی گئی ہے کہ کمیٹی اپنی قطعی رپورٹ بلگاوی میں ہونے والے لیجسلیچر اجلاس کے دوران پیش کرے، تاکہ ریاستی حکومت کے خلاف بی جے پی نے جو محاذ کھولا ہے اسی محاذ سے بی جے پی کو نشانہ بنایا جائے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے اگر کمار سوامی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی شروع کی گئی تو سابق وزیراعلیٰ یڈیورپا اور شوبھا کارند لاجے کو مبینہ بے قاعدگیوں کیلئے ملزم بنایا جاسکتا ہے۔ ڈی کے شیوکمار نے 30اکتوبر کو کمیٹی کی میٹنگ طلب کی ہے اور میٹنگ کی صدارت کرنے کیلئے کمیٹی چیرمین کمار سوامی کو ڈی کے شیوکمار نے خود فون کرکے مدعو کیا ہے اور انہوں نے میٹنگ میں شرکت پر آمادگی بھی ظاہر کردی ہے۔ دو ماہ قبل کمار سوامی کمیٹی کی طرف سے حکومت کو جو رپورٹ پیش کی گئی تھی، اس رپورٹ کے بعض حصے میڈیا کے حلقوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اسی لئے حکومت اس بات کیلئے کوشاں ہے کہ جلد از جلد یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے اگر بے قاعدگی ہوئی ہے تو خاطیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ کمار سوامی نے اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ بیرون ذرائع سے بجلی کی خریداری کے 28؍ ہزار کروڑ روپیوں کے ٹھیکوں کی منظوری میں ہزاروں کروڑ کی ہیرا پھیری ہوئی ہے۔ آنے والے اسمبلی انتخابات کو کافی قریب دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگانے والی بی جے پی کو موثر جواب دینے کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا رپورٹ کو ہتھیار بنانے کی پوری تیاری میں ہیں۔